EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

بشیر بدر




اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

بشیر بدر




اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری
لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

بشیر بدر




جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

بشیر بدر




جس پر ہماری آنکھ نے موتی بچھائے رات بھر
بھیجا وہی کاغذ اسے ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں

بشیر بدر




کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں
کہاں دن گزارا کہاں رات کی

بشیر بدر




کئی ستاروں کو میں جانتا ہوں بچپن سے
کہیں بھی جاؤں مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں

بشیر بدر