EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

بشیر بدر




حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

بشیر بدر




حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر میں
جو زندگی کو جیت لے وہ زندگی کا مرد ہے

بشیر بدر




ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں
عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا

بشیر بدر




اجازت ہو تو میں اک جھوٹ بولوں
مجھے دنیا سے نفرت ہو گئی ہے

بشیر بدر




اک شام کے سائے تلے بیٹھے رہے وہ دیر تک
آنکھوں سے کی باتیں بہت منہ سے کہا کچھ بھی نہیں

بشیر بدر




اس شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیں
یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے

بشیر بدر