کوئی پھول سا ہاتھ کاندھے پہ تھا
مرے پاؤں شعلوں پہ جلتے رہے
بشیر بدر
لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے
یوں یاد تری شب بھر سینے میں سلگتی ہے
بشیر بدر
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
بشیر بدر
ٹیگز:
| فاساد |
| 2 لائنیں شیری |
مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا
آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا
بشیر بدر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے
خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے
بشیر بدر
محلوں میں ہم نے کتنے ستارے سجا دیئے
لیکن زمیں سے چاند بہت دور ہو گیا
بشیر بدر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا
میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے
بشیر بدر
ٹیگز:
| بیکسی |
| 2 لائنیں شیری |

