EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا
جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

بشیر بدر




گلے میں اس کے خدا کی عجیب برکت ہے
وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

بشیر بدر




غزلوں کا ہنر اپنی آنکھوں کو سکھائیں گے
روئیں گے بہت لیکن آنسو نہیں آئیں گے

بشیر بدر




غزلوں نے وہیں زلفوں کے پھیلا دئیے سائے
جن راہوں پہ دیکھا ہے بہت دھوپ کڑی ہے

بشیر بدر




گھر نیا برتن نئے کپڑے نئے
ان پرانے کاغذوں کا کیا کریں

بشیر بدر




گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

بشیر بدر




ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

بشیر بدر