EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہاتھ میں چاند جہاں آیا مقدر چمکا
سب بدل جائے گا قسمت کا لکھا جام اٹھا

بشیر بدر




ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے

بشیر بدر




ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

بشیر بدر




ہم دلی بھی ہو آئے ہیں لاہور بھی گھومے
اے یار مگر تیری گلی تیری گلی ہے

بشیر بدر




ہم نے تو بازار میں دنیا بیچی اور خریدی ہے
ہم کو کیا معلوم کسی کو کیسے چاہا جاتا ہے

بشیر بدر




ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

بشیر بدر




حقیقتوں میں زمانہ بہت گزار چکے
کوئی کہانی سناؤ بڑا اندھیرا ہے

بشیر بدر