EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بہت دنوں سے ہے دل اپنا خالی خالی سا
خوشی نہیں تو اداسی سے بھر گئے ہوتے

بشیر بدر




بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام
مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

بشیر بدر




بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے
اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

بشیر بدر




بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

بشیر بدر




بھول شاید بہت بڑی کر لی
دل نے دنیا سے دوستی کر لی

بشیر بدر




بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
کوئی آنسو گرا تھا یاد ہوگا

بشیر بدر




چاند سا مصرعہ اکیلا ہے مرے کاغذ پر
چھت پہ آ جاؤ مرا شعر مکمل کر دو

بشیر بدر