EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ اہتمام چراغاں بجا سہی لیکن
سحر تو ہو نہیں سکتی دیئے جلانے سے

بشر نواز




شام ڈھلتے ہی یہ عالم ہے تو کیا جانے بشیرؔ
حال اپنا صبح تک بے ربط نبضیں کیا کریں

بشیر احمد بشیر




آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

بشیر بدر




عاشقی میں بہت ضروری ہے
بے وفائی کبھی کبھی کرنا

بشیر بدر




ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

بشیر بدر




اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا
جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا

بشیر بدر




اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

بشیر بدر