EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا
بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی

بشیر بدر




دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے
کچھ زہر بھی ہوتا ہے انگریزی دواؤں میں

بشیر بدر




دل کی بستی پرانی دلی ہے
جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

بشیر بدر




دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے
اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے

بشیر بدر




دن میں پریوں کی کوئی کہانی نہ سن
جنگلوں میں مسافر بھٹک جائیں گے

بشیر بدر




دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے
اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے

بشیر بدر




دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم
تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

بشیر بدر