یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی
بہادر شاہ ظفر
یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
مرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنو
بہادر شاہ ظفر
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
بہادر شاہ ظفر
ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا
کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا
بہادر شاہ ظفر
ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار
تو نے اب محنت مری بیکار کی
بہرام جی
ہے مسلماں کو ہمیشہ آب زمزم کی تلاش
اور ہر اک برہمن گنگ و جمن میں مست ہے
بہرام جی
عشق میں دل سے ہم ہوئے محو تمہارے اے بتو
خالی ہیں چشم و دل کرو ان میں گزر کسی طرح
بہرام جی

