EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

بہادر شاہ ظفر




یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
مرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنو

بہادر شاہ ظفر




ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

بہادر شاہ ظفر




ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا
کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا

بہادر شاہ ظفر




ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار
تو نے اب محنت مری بیکار کی

بہرام جی




ہے مسلماں کو ہمیشہ آب زمزم کی تلاش
اور ہر اک برہمن گنگ و جمن میں مست ہے

بہرام جی




عشق میں دل سے ہم ہوئے محو تمہارے اے بتو
خالی ہیں چشم و دل کرو ان میں گزر کسی طرح

بہرام جی