EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں
سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں

عزیز لکھنوی




تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی
بات پر بات یاد آتی ہے

عزیز لکھنوی




تمہیں ہنستے ہوئے دیکھا ہے جب سے
مجھے رونے کی عادت ہو گئی ہے

عزیز لکھنوی




اداسی اب کسی کا رنگ جمنے ہی نہیں دیتی
کہاں تک پھول برسائے کوئی گور غریباں پر

عزیز لکھنوی




وہی حکایت دل تھی وہی شکایت دل
تھی ایک بات جہاں سے بھی ابتدا کرتے

عزیز لکھنوی




یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے
کہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتے

عزیز لکھنوی




یہ تیری آرزو میں بڑھی وسعت نظر
دنیا ہے سب مری نگہ‌ انتظار میں

عزیز لکھنوی