تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں
سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی
بات پر بات یاد آتی ہے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تمہیں ہنستے ہوئے دیکھا ہے جب سے
مجھے رونے کی عادت ہو گئی ہے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اداسی اب کسی کا رنگ جمنے ہی نہیں دیتی
کہاں تک پھول برسائے کوئی گور غریباں پر
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہی حکایت دل تھی وہی شکایت دل
تھی ایک بات جہاں سے بھی ابتدا کرتے
عزیز لکھنوی
یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے
کہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ تیری آرزو میں بڑھی وسعت نظر
دنیا ہے سب مری نگہ انتظار میں
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

