EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زبان دل کی حقیقت کو کیا بیاں کرتی
کسی کا حال کسی سے کہا نہیں جاتا

عزیز لکھنوی




چاند تارے اک دیا اور رات کا کومل بدن
صبح دم بکھرے پڑے تھے چار سو میری طرح

عزیز نبیل




چپکے چپکے وہ پڑھ رہا ہے مجھے
دھیرے دھیرے بدل رہا ہوں میں

عزیز نبیل




گزر رہا ہوں کسی خواب کے علاقے سے
زمیں سمیٹے ہوئے آسماں اٹھائے ہوئے

عزیز نبیل




ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیلؔ
اک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

عزیز نبیل




کسی سے ذہن جو ملتا تو گفتگو کرتے
ہجوم شہر میں تنہا تھے ہم، بھٹک رہے تھے

عزیز نبیل




میں چھپ رہا ہوں کہ جانے کس دم
اتار ڈالے لباس مجھ کو

عزیز نبیل