EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو
روتے روتے کبھی ہنسی آئی

انور تاباں




ہر ایک شخص مرا شہر میں شناسا تھا
مگر جو غور سے دیکھا تو میں اکیلا تھا

انور تاباں




حریم ناز کے پردے میں جو نہاں تھا کبھی
اسی نے شوخ ادائیں دکھا کے لوٹ لیا

انور تاباں




اس خوف میں کہ کھد نہ بھٹک جائیں راہ میں
بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا نہیں کوئی

انور تاباں




جی تو یہ چاہتا ہے مر جائیں
زندگی اب تری رضا کیا ہے

انور تاباں




خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور
تمہاری بات اور ہے ہماری بات اور

انور تاباں




کسی کی برق نظر سے نہ بجلیوں سے جلے
کچھ اس طرح کی ہو تعمیر آشیانے کی

انور تاباں