EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے
میں ڈھلتا نشہ ہوں موج طرب ابھار مجھے

انور صدیقی




کتنے سبک دل ہوئے تجھ سے بچھڑنے کے بعد
ان سے بھی ملنا پڑا جن سے محبت نہ تھی

انور صدیقی




ساری شفق سمیٹ کے سورج چلا گیا
اب کیا رہا ہے موج شب تار کے سوا

انور صدیقی




اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی
سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کو

انور صدیقی




آئے گا وہ دن ہماری زندگی میں بھی ضرور
جو اندھیروں کو مٹا کر روشنی دے جائے گا

انور تاباں




آج مغموم کیوں ہو اے تاباںؔ
کچھ تو بولو کہ ماجرا کیا ہے

انور تاباں




دل ہے پریشاں ان کی خاطر
پل بھر کو آرام نہیں ہے

انور تاباں