EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خود اپنے قتل کا الزام ڈھو رہا ہوں ابھی
میں اپنی لاش پہ سر رکھ کے رو رہا ہوں ابھی

مرزا اطہر ضیا




کیا پتا جانے کہاں آگ لگی
ہر طرف صرف دھواں ہے مجھ میں

مرزا اطہر ضیا




میں ادھورا سا ہوں اس کے اندر
اور وہ شخص مکمل مجھ میں

مرزا اطہر ضیا




میں ہی آئینۂ دنیا میں چلا آیا ہوں
یا چلی آئی ہے دنیا مرے آئینے میں

مرزا اطہر ضیا




میں نے کیسے کیسے موتی ڈھونڈے ہیں
لیکن تیرے آگے سب کچھ پتھر ہے

مرزا اطہر ضیا




میری آنکھوں سے بھی اک بار نکل
دیکھوں میں تیری روانی پانی

مرزا اطہر ضیا




مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے
میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں

مرزا اطہر ضیا