مری جاں تیری خاطر جاں کا سودا
بہت مہنگا بھی ہے دشوار بھی ہے
خالد حسن قادری
نہ آئے تم نہ آؤ تم کہ اب آنے سے کیا حاصل
خود اب تو ہم سے اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی
خالد حسن قادری
صدائے شہر فسوں ہے نظر نہ در سے ہٹا
وہ مثل سنگ ہوا جس نے لوٹ کر دیکھا
خالد حسن قادری
تمہارے نام پہ دل اب بھی رک سا جاتا ہے
یہ بات وہ ہے کہ اس سے مفر نہیں ہوتا
خالد حسن قادری
یہ وقفہ ساعتوں کا چند صدیوں کے برابر ہے
وہ اب آواز دیتے ہیں تو پہچانی نہیں جاتی
خالد حسن قادری
ایک ہی میدان میں لیٹے ہیں سب
کیا گدا کیا تاجور مرنے کے بعد
خالد اقبال تائب
کس قدر بے چارگی میں ہیں پڑے
کیسے کیسے چارہ گر مرنے کے بعد
خالد اقبال تائب

