EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مری جاں تیری خاطر جاں کا سودا
بہت مہنگا بھی ہے دشوار بھی ہے

خالد حسن قادری




نہ آئے تم نہ آؤ تم کہ اب آنے سے کیا حاصل
خود اب تو ہم سے اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی

خالد حسن قادری




صدائے شہر فسوں ہے نظر نہ در سے ہٹا
وہ مثل سنگ ہوا جس نے لوٹ کر دیکھا

خالد حسن قادری




تمہارے نام پہ دل اب بھی رک سا جاتا ہے
یہ بات وہ ہے کہ اس سے مفر نہیں ہوتا

خالد حسن قادری




یہ وقفہ ساعتوں کا چند صدیوں کے برابر ہے
وہ اب آواز دیتے ہیں تو پہچانی نہیں جاتی

خالد حسن قادری




ایک ہی میدان میں لیٹے ہیں سب
کیا گدا کیا تاجور مرنے کے بعد

خالد اقبال تائب




کس قدر بے چارگی میں ہیں پڑے
کیسے کیسے چارہ گر مرنے کے بعد

خالد اقبال تائب