پوچھتے ہیں یہ شاعری کیا ہے
ہائے ایسی بھی سادگی کیا ہے
خالد اقبال تائب
وہ جن آنکھوں میں تھی برسات کے منظر کی جھلک
اب ان آنکھوں میں سفیدی نہ سیاہی نہ دھنک
خالد اقبال تائب
آباد بستیاں تھیں فصیلوں کے سائے میں
آپس میں بستیوں کو ملاتا ہوا حصار
خالد اقبال یاسر
بھول جانا تھا جسے ثبت ہے دل پر میرے
یاد رکھنا تھا جسے اس کو بھلا بیٹھا ہوں
خالد اقبال یاسر
برا بھلا واسطہ بہر طور اس سے کچھ دیر تو رہا ہے
کہیں سر راہ سامنا ہو تو اتنی شدت سے منہ نہ موڑوں
خالد اقبال یاسر
ہاں یہ ممکن ہے مگر اتنا ضروری بھی نہیں
جو کوئی پیار میں ہارا وہی فن کار ہوا
خالد اقبال یاسر
انہیں در خواب گاہ سے کس لیے ہٹایا
محافظوں کی وفا شعاری میں کیا کمی تھی
خالد اقبال یاسر

