EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پوچھتے ہیں یہ شاعری کیا ہے
ہائے ایسی بھی سادگی کیا ہے

خالد اقبال تائب




وہ جن آنکھوں میں تھی برسات کے منظر کی جھلک
اب ان آنکھوں میں سفیدی نہ سیاہی نہ دھنک

خالد اقبال تائب




آباد بستیاں تھیں فصیلوں کے سائے میں
آپس میں بستیوں کو ملاتا ہوا حصار

خالد اقبال یاسر




بھول جانا تھا جسے ثبت ہے دل پر میرے
یاد رکھنا تھا جسے اس کو بھلا بیٹھا ہوں

خالد اقبال یاسر




برا بھلا واسطہ بہر طور اس سے کچھ دیر تو رہا ہے
کہیں سر راہ سامنا ہو تو اتنی شدت سے منہ نہ موڑوں

خالد اقبال یاسر




ہاں یہ ممکن ہے مگر اتنا ضروری بھی نہیں
جو کوئی پیار میں ہارا وہی فن کار ہوا

خالد اقبال یاسر




انہیں در خواب گاہ سے کس لیے ہٹایا
محافظوں کی وفا شعاری میں کیا کمی تھی

خالد اقبال یاسر