EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب مری تنہائی بھی مجھ سے بغاوت کر گئی
کل یہاں جو کچھ ہوا تھا سب فسانا ہو گیا

خالد غنی




لکیریں پیٹنے والوں کو خالدؔ
لکیروں پر ہنسی آنے لگی ہے

خالد غنی




مرے سلوک کی قیمت یہیں ادا کر دے
مجھے گناہ کی لذت سے آشنا کر دے

خالد غنی




رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا
اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا

خالد غنی




بہت ہیں سجدہ گاہیں پر در جاناں نہیں ملتا
ہزاروں دیوتا ہیں ہر طرف انساں نہیں ملتا

خالد حسن قادری




گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی
نہ روشنی سے ہوا کچھ نہ کچھ ہوا سے ہوا

خالد حسن قادری




کس سے پوچھیں کہ ہم کدھر جائیں
یاد اب ہم کو وہ گلی ہی نہیں

خالد حسن قادری