EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمارے ہاتھ کاٹے جا رہے تھے
تمہارے ہاتھ سے کرپان لے کر

خالد عبادی




کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے
ایسے میں جب تیر ستم کی بارش ہوتی ہے

خالد عبادی




میں زخم زخم نہیں ہوں مگر مسیحائی
مرے بدن میں مری جان کیوں نہیں رکھتی

خالد عبادی




شہر کا بھی دستور وہی جنگل والا
کھوجنے والے ہی اکثر کھو جاتے ہیں

خالد عبادی




یہ کیسا تنازع ہے کہ فیصل نہیں ہوتا
حق تیرا زیادہ ہے کہ حکام کا تیرے

خالد عبادی




ذرا سا درد اور اتنی دوائیں
پسند آئی نہیں چارہ گری تک

خالد عبادی




ذرا ٹھہرو اسے آنے دو اس کی بات بھی سن لیں
ہمیں جو علم ہے گو دل کو دہلانے ہی والا ہے

خالد عبادی