EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تم نہیں آؤ گے خبر ہے ہمیں
پھر بھی ہم انتظار کر لیں گے

خلیل مامون




وہ برائی سب سے میری کر رہے ہیں
کیوں نہیں کرتے بیاں اچھائیوں کو

خلیل مامون




گرمی بہت ہے آج کھلا رکھ مکان کو
اس کی گلی سے رات کو پروائی آئے گی

خلیل رامپوری




گرمی بہت ہے آج کھلا رکھ مکان کو
اس کی گلی سے رات کو پروائی آئے گی

خلیل رامپوری




اب کے سفر میں درد کے پہلو عجیب ہیں
جو لوگ ہم خیال نہ تھے ہم سفر ہوئے

خلیل تنویر




عجیب شخص تھا اس کو سمجھنا مشکل ہے
کنارے آب کھڑا تھا مگر وہ پیاسا تھا

خلیل تنویر




اپنا لہو یتیم تھا کوئی نہ رنگ لا سکا
منصف سبھی خموش تھے عذر جفا کے سامنے

خلیل تنویر