EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مجھے تو عشق ہے پھولوں میں صرف خوشبو سے
بلا رہی ہے کسی لالہ کی مہک مجھ کو

خلیل مامون




رفتار روز و شب سے کہاں تک نبھاؤں گا
تھک ہار کر میں گھر کی طرف لوٹ جاؤں گا

خلیل مامون




سب لوگ ہمیں ایک نظر آتے ہیں
اندازہ نہیں ہوتا ہے اب چہروں کا

خلیل مامون




صرف چہرہ ہی نظر آتا ہے آئینہ میں
عکس آئینہ نہیں دکھتا ہے آئینہ میں

خلیل مامون




شاید اپنا پتہ بھی مل جائے
جھانکتا ہوں تری نگاہوں میں

خلیل مامون




تیری کیا یہ حالت ہو گئی ہے مامونؔ
خود ہی کہہ رہا ہے خود ہی سن رہا ہے

خلیل مامون




تم ہو کھوئے ہوئے زمانے میں
میں خود اپنی ہی ذات میں گم ہوں

خلیل مامون