EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دے
ہاں اپنی برائی کو پرکھنے کا ہنر دے

خلیل تنویر




بہت عزیز تھے اس کو سفر کے ہنگامے
وہ سب کے ساتھ چلا تھا مگر اکیلا تھا

خلیل تنویر




دور تک ایک سیاہی کا بھنور آئے گا
خود میں اترو گے تو ایسا بھی سفر آئے گا

خلیل تنویر




گھر میں کیا غم کے سوا تھا جو بہا لے جاتا
میری ویرانی پہ ہنستا رہا دریا اس کا

خلیل تنویر




حادثوں کی مار سے ٹوٹے مگر زندہ رہے
زندگی جو زخم بھی تو نے دیا گہرا نہ تھا

خلیل تنویر




حرف کو برگ نوا دیتا ہوں
یوں مرے پاس ہنر کچھ بھی نہیں

خلیل تنویر




حدود دل سے جو گزرا وہ جان لیوا تھا
یوں زلزلے تو کئی اس جہان میں آئے

خلیل تنویر