EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے
اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں

خلیل تنویر




پرند اونچی اڑانوں کی دھن میں رہتا ہے
مگر زمیں کی حدوں میں بسر بھی کرتا ہے

خلیل تنویر




رواں تھی کوئی طلب سی لہو کے دریا میں
کہ موج موج بھنور عمر کا سفینہ تھا

خلیل تنویر




رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے
حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے

خلیل تنویر




شب کی دیوار گری تو دیکھا
نوک نشتر ہے سحر کچھ بھی نہیں

خلیل تنویر




تمام درد کے رشتوں سے واسطہ نہ رہے
حصار جسم سے نکلوں تو بے صدا ہو جاؤں

خلیل تنویر




تیری آمد کی منتظر آنکھیں
بجھ گئیں خاک ہو گئے رستے

خلیل تنویر