EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو نور بھرتے تھے ظلمات شب کے صحرا میں
وہ چاند تارے فلک سے اتر گئے شاید

خلیل مامون




لفظوں کا خزانہ بھی کبھی کام نہ آئے
بیٹھے رہیں لکھنے کو ترا نام نہ آئے

خلیل مامون




میں منزلوں سے بہت دور آ گیا مامونؔ
سفر نے کھو دیے سارے نشاں تمہاری طرف

خلیل مامون




مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو
خوابوں سے اٹھ رہا ہے دھواں جاگتے رہو

خلیل مامون




میری طرح سے یہ بھی ستایا ہوا ہے کیا
کیوں اتنے داغ دکھتے ہیں مہتاب میں ابھی

خلیل مامون




مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے
میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں

خلیل مامون




مجھے پہنچنا ہے بس اپنے آپ کی حد تک
میں اپنی ذات کو منزل بنا کے چلتا ہوں

خلیل مامون