حدود شہر سے باہر بھی بستیاں پھیلیں
سمٹ کے رہ گئے یوں جنگلوں کے گھیرے بھی
خلیل تنویر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس بھرے شہر میں دن رات ٹھہرتے ہی نہیں
کون یادوں کے سفر نامے کو تحریر کرے
خلیل تنویر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جن کو زمین دیدۂ دل سے عزیز تھی
وہ کم نگاہ لوگ تھے ہجرت نہ کر سکے
خلیل تنویر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو زخم دیتا ہے تو بے اثر ہی دیتا ہے
خلش وہ دے کہ جسے بھول بھی نہ پاؤں میں
خلیل تنویر
ٹیگز:
| ڈار |
| 2 لائنیں شیری |
کسے خیال تھا مٹتی ہوئی عبارت کا
مہک رہا تھا چمن در چمن سماعت کا
خلیل تنویر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
لوح جہاں پہ اس طرح لکھا گیا ہوں میں
جس کا کوئی جواب نہیں وہ سوال ہوں
خلیل تنویر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں کیا ہوں کون ہوں کیا چیز مجھ میں مضمر ہے
کئی حجاب اٹھائے مگر حجاب میں ہوں
خلیل تنویر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

