EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حدود شہر سے باہر بھی بستیاں پھیلیں
سمٹ کے رہ گئے یوں جنگلوں کے گھیرے بھی

خلیل تنویر




اس بھرے شہر میں دن رات ٹھہرتے ہی نہیں
کون یادوں کے سفر نامے کو تحریر کرے

خلیل تنویر




جن کو زمین دیدۂ دل سے عزیز تھی
وہ کم نگاہ لوگ تھے ہجرت نہ کر سکے

خلیل تنویر




جو زخم دیتا ہے تو بے اثر ہی دیتا ہے
خلش وہ دے کہ جسے بھول بھی نہ پاؤں میں

خلیل تنویر




کسے خیال تھا مٹتی ہوئی عبارت کا
مہک رہا تھا چمن در چمن سماعت کا

خلیل تنویر




لوح جہاں پہ اس طرح لکھا گیا ہوں میں
جس کا کوئی جواب نہیں وہ سوال ہوں

خلیل تنویر




میں کیا ہوں کون ہوں کیا چیز مجھ میں مضمر ہے
کئی حجاب اٹھائے مگر حجاب میں ہوں

خلیل تنویر