EN हिंदी
منزل غم کو پار کر لیں گے | شیح شیری
manzil-e-gham ko par kar lenge

غزل

منزل غم کو پار کر لیں گے

خلیل مامون

;

منزل غم کو پار کر لیں گے
درد دل ہی کو یار کر لیں گے

تم نہیں آؤ گے خبر ہے ہمیں
پھر بھی ہم انتظار کر لیں گے

جب تو جائے گا چھوڑ کر ہم کو
تیری یادوں سے پیار کر لیں گے

خون چھڑکیں گے سوکھی ڈالوں پر
ہم خزاں کو بہار کر لیں گے

تم ملو تو سہی کہیں ہم کو
عشق بے اختیار کر لیں گے

کچھ نہیں مل سکا ہمیں مامونؔ
تم ملوگے تو پیار کر لیں گے