نیند چبھنے لگی ہے آنکھوں میں
کب تلک جاگنا ہے راتوں میں
تم اگر یوں ہی بات کرتے رہے
بیت جائے گا وقت باتوں میں
انگلیاں ہو گئیں فگار اپنی
چھپ گیا ہے گلاب کانٹوں میں
شاید اپنا پتہ بھی مل جائے
جھانکتا ہوں تری نگاہوں میں
سب ہے تیرے سوال میں پنہاں
کچھ نہیں ہے مرے جوابوں میں
جو نہیں مل سکا حقیقت میں
ڈھونڈھتا پھر رہا ہوں خوابوں میں
فیصلہ تو تمہیں کو کرنا ہے
دیکھتے کیا ہو تم گواہوں میں
مصلحت کوش ہو گیا مامونؔ
گھر کے تنقید کرنے والوں میں
غزل
نیند چبھنے لگی ہے آنکھوں میں
خلیل مامون

