EN हिंदी
لفظ کی کائنات میں گم ہوں | شیح شیری
lafz ki kaenat mein gum hun

غزل

لفظ کی کائنات میں گم ہوں

خلیل مامون

;

لفظ کی کائنات میں گم ہوں
فکر میں گم ہوں بات میں گم ہوں

تم ہو کھوئے ہوئے زمانے میں
میں خود اپنی ہی ذات میں گم ہوں

کیا عجب تھا جو موت آ جاتی
غم تو یہ ہے حیات میں گم ہوں

فتح کے جشن میں ہیں سب سرشار
میں تو اپنی ہی مات میں گم ہوں

تم نے جن مشکلوں میں چھوڑا تھا
میں انہیں مشکلات میں گم ہوں

زہر کھانا مجھے نہیں آتا
قند میں اور نبات میں گم ہوں

کوئی آئے نہ دیکھنے مجھ کو
میں عجب کائنات میں گم ہوں

میں ہوں مامونؔ اک عجب انسان
کائنات اور ذات میں گم ہوں