EN हिंदी
ٹوٹا ہے پرانا سادہ پل لفظوں کا | شیح شیری
TuTa hai purana sada pul lafzon ka

غزل

ٹوٹا ہے پرانا سادہ پل لفظوں کا

خلیل مامون

;

ٹوٹا ہے پرانا سادہ پل لفظوں کا
اب رشتہ ہے دنیا سے فقط آنکھوں کا

وہ بھول گئے ہیں تو عجب کیا اس میں
تھا کھیل یہ تو گزرے ہوئے لمحوں کا

اک لمحہ میں سب ختم ہے ماضی ہو کہ حال
یادوں کا خزانہ تھا بہت برسوں کا

سب لوگ ہمیں ایک نظر آتے ہیں
اندازہ نہیں ہوتا ہے اب چہروں کا

مامونؔ ہیں باتیں ہوا کا جھونکا
ہم کو تو بھروسہ ہی نہیں باتوں کا