EN हिंदी
صرف چہرہ ہی نظر آتا ہے آئینہ میں | شیح شیری
sarf chehra hi nazar aata hai aaine mein

غزل

صرف چہرہ ہی نظر آتا ہے آئینہ میں

خلیل مامون

;

صرف چہرہ ہی نظر آتا ہے آئینہ میں
عکس آئینہ نہیں دکھتا ہے آئینہ میں

سلسلہ یاد کا جب ذہن میں جاگ اٹھتا ہے
ایک دریا سا امڈ آتا ہے آئینہ میں

اپنی آنکھوں کو کبھی غور سے جب دیکھتا ہوں
نور چہرہ ترا جاگ اٹھتا ہے آئینہ میں

روتے روتے جو کبھی پڑتی ہے اس سمت نظر
کوئی نمناک دیا جلتا ہے آئینہ میں

کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ شب فرقت میں
عکس ابھر کر ترا کھو جاتا ہے آئینہ میں

تیرے چہرہ کی ہنسی دیکھ کے یوں لگتا ہے
پھول جیسے کوئی کھل اٹھتا ہے آئینہ میں

کیا خبر کیسا لگے عکس جو باہر آ جائے
اس کو رہنے دو وہیں اچھا ہے آئینہ میں

اس میں جو ڈوبا کبھی وہ نہ ابھرنے پایا
موجزن ایک سیہ دریا ہے آئینہ میں

آئینہ خانہ میں کیا ہم سے چھپا ہے مامونؔ
ہم نے کیا کیا نہ بھلا دیکھا ہے آئینہ میں