EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مجھ سے منسوب ہے غبار مرا
قافلے میں نہ کر شمار مرا

کاشف حسین غائر




مجھ سے رستوں کا بچھڑنا نہیں دیکھا جاتا
مجھ سے ملنے وہ کسی موڑ پہ آیا نہ کرے

کاشف حسین غائر




نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے
نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا

کاشف حسین غائر




نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے
یہ روشنی بھی ستاروں میں بانٹ دی میں نے

کاشف حسین غائر




نیند اڑنے لگی ہے آنکھوں سے
دھول جمنے لگی ہے بستر پر

کاشف حسین غائر




صحرا میں آ نکلے تو معلوم ہوا
تنہائی کو وسعت کم پڑ جاتی ہے

کاشف حسین غائر




شور جتنا ہے کائنات میں شور
میرے اندر کی خامشی سے ہوا

کاشف حسین غائر