EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری
اور نیند بچھاتی رہی بستر مرے آگے

کاشف حسین غائر




کچھ ایسی بھی دل کی باتیں ہوتی ہیں
جن باتوں کو خلوت کم پڑ جاتی ہے

کاشف حسین غائر




کچھ دیر بیٹھ جائیے دیوار کے قریب
کیا کہہ رہا ہے سایۂ دیوار جانیے

کاشف حسین غائر




کیا چاہتی ہے ہم سے ہماری یہ زندگی
کیا قرض ہے جو ہم سے ادا ہو نہیں رہا

کاشف حسین غائر




کیا کہیں اور دل کے بارے میں
ہم ملازم ہیں اس ادارے میں

کاشف حسین غائر




موت کا کیا کام جب اس شہر میں
زندگی جیسی بلا موجود ہے

کاشف حسین غائر




میرے اندر کا شور ہے مجھ میں
ورنہ باہر تو خامشی ہے یہاں

کاشف حسین غائر