EN हिंदी
خواب بنتا رہوں میں بستر پر | شیح شیری
KHwab bunta rahun main bistar par

غزل

خواب بنتا رہوں میں بستر پر

کاشف حسین غائر

;

خواب بنتا رہوں میں بستر پر
اور تکیہ کروں مقدر پر

محو پرواز ہے یہ دل اور میں
جاں چھڑکتا ہوں اس کبوتر پر

عمر بھر دیکھتے رہے سائے
دھوپ پڑتی رہی مرے سر پر

خود سے مشکل ہوا سخن کرنا
وقت وہ آ پڑا سخن ور پر

نیند اڑنے لگی ہے آنکھوں سے
دھول جمنے لگی ہے بستر پر

خاک ہونے سے پیشتر غائرؔ
نقش ہو جاؤں کیوں نہ پتھر پر