EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میری غزل کو میری جاں فقط غزل نہ سمجھ
اک آئنہ ہے جو ہر دم ترے مقابل ہے

کلیم عاجز




مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے
بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے

کلیم عاجز




مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

کلیم عاجز




نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں
ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے

کلیم عاجز




رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

کلیم عاجز




شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

کلیم عاجز




سنا ہے ہمیں بے وفا تم کہو ہو
ذرا ہم سے آنکھیں ملا لو تو جانیں

کلیم عاجز