انہیں کے گیت زمانے میں گائے جائیں گے
جو چوٹ کھائیں گے اور مسکرائے جائیں گے
کلیم عاجز
اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ
گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے
کلیم عاجز
وہی تو عمر میرے درد دل کی بھی ہوگی
ترے شباب کا یہ کون سال ہے پیارے
کلیم عاجز
وہ بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل
سمجھانے میں اک عمر گزر جائے ہے پیارے
کلیم عاجز
وہ جو شاعری کا سبب ہوا وہ معاملہ بھی عجب ہوا
میں غزل سناؤں ہوں اس لئے کہ زمانہ اس کو بھلا نہ دے
کلیم عاجز
وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مسکراؤ
وفا یاد رکھو ستم بھول جاؤ
کلیم عاجز
وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟
تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟
کلیم عاجز

