جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے
اس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| خدواری |
| 2 لائنیں شیری |
کیفؔ پیدا کر سمندر کی طرح
وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| تعظیم |
| 2 لائنیں شیری |
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
کیف بھوپالی
کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔ
ان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| خیٹ |
| 2 لائنیں شیری |
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
کیف بھوپالی
کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور
اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| بیچینی |
| 2 لائنیں شیری |
ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
کیف بھوپالی

