EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہر ایک گام پہ رنج سفر اٹھاتے ہوئے
میں آ پڑا ہوں یہاں تجھ سے دور جاتے ہوئے

کامی شاہ




لے اڑا ہے ترا خیال ہمیں
اور ہم قافلے سے نکلے ہیں

کامی شاہ




میں اپنے دل کی کہتا ہوں
تم اپنے دل کی سنتی ہو

کامی شاہ




میں اڑتا رہتا ہوں نیلے سمندروں میں کہیں
سو تتلیوں کے لیے خواب لاتا رہتا ہوں

کامی شاہ




ویسے تم اچھی لڑکی ہو
لیکن میری کیا لگتی ہو

کامی شاہ




اجملؔ سفر میں ساتھ رہیں یوں صعوبتیں
جیسے کہ ہر سزا کا سزا وار میں ہی تھا

کبیر اجمل




کہتے ہیں کہ اٹھنے کو ہے اب رسم محبت
اور اس کے سوا کوئی تماشا بھی نہیں ہے

کبیر اجمل