یہ سواد شہر اور ایسا کہاں حسن ملیح
شش جہت میں ملک دیکھا ہی نہیں پنجاب سا
جرأت قلندر بخش
یوں قطرے مرے خون کے اس تیغ سے گزرے
جوں فوج کا پل پر سے ہو دشوار اتارا
جرأت قلندر بخش
یوں اٹھے وہ بزم میں تعظیم کو غیروں کی ہائے
ہم نشیں تو بیٹھ یاں ہم سے نہ بیٹھا جائے گا
جرأت قلندر بخش
زاہدا زہد تو پڑھا، میں عشق
ہے مری اور تری کتاب میں فرق
جرأت قلندر بخش
زاہدا زہد و ریاضت ہو مبارک تجھ کو
کیوں کہ تقویٰ سے میاں میری تو بہبود نہیں
جرأت قلندر بخش
دیے کے اور ہواؤں کے مراسم کھل نہیں پاتے
نہیں کھلتا کہ ان میں سے یہ کس کی آزمائش ہے
کامی شاہ
فقط غصہ پیے جاتے ہیں روز و شب کے جھگڑے میں
کوئی ہنگامہ کر سکتے جو وحشت راس آ جاتی
کامی شاہ

