EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ سواد شہر اور ایسا کہاں حسن ملیح
شش جہت میں ملک دیکھا ہی نہیں پنجاب سا

جرأت قلندر بخش




یوں قطرے مرے خون کے اس تیغ سے گزرے
جوں فوج کا پل پر سے ہو دشوار اتارا

جرأت قلندر بخش




یوں اٹھے وہ بزم میں تعظیم کو غیروں کی ہائے
ہم نشیں تو بیٹھ یاں ہم سے نہ بیٹھا جائے گا

جرأت قلندر بخش




زاہدا زہد تو پڑھا، میں عشق
ہے مری اور تری کتاب میں فرق

جرأت قلندر بخش




زاہدا زہد و ریاضت ہو مبارک تجھ کو
کیوں کہ تقویٰ سے میاں میری تو بہبود نہیں

جرأت قلندر بخش




دیے کے اور ہواؤں کے مراسم کھل نہیں پاتے
نہیں کھلتا کہ ان میں سے یہ کس کی آزمائش ہے

کامی شاہ




فقط غصہ پیے جاتے ہیں روز و شب کے جھگڑے میں
کوئی ہنگامہ کر سکتے جو وحشت راس آ جاتی

کامی شاہ