EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جاڑے کی رت ہے نئی تن پر نیلی شال
تیرے ساتھ اچھی لگی سردی اب کے سال

جینت پرمار




جگنو تھا تارا تھا کیا تھا
دروازے پر کون کھڑا تھا

جینت پرمار




لاکھ چھپائے نہ چھپے ان راتوں کا بھید
آنکھوں کے آکاش میں پڑھے تھے چاروں وید

جینت پرمار




لمس کی وہ روشنی بھی بجھ گئی
جسم کے اندر اندھیرا اور ہے

جینت پرمار




مانگ بھروں سندور سے سجوں سولہ سنگھار
جب تک پہنوں گی نہیں ان باہوں کا ہار

جینت پرمار




میں ہوں اور یہ دور تک دھوپ کا رستہ ساتھ
کاندھے پر سایہ کوئی رکھ دیتا ہے ہاتھ

جینت پرمار




دفتر کی تھکن اوڑھ کے تم جس سے ملے ہو
اس شخص کے تازہ لب و رخسار تو دیکھو

جاذب قریشی