EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مدت ہوئی کہ زندہ ہوں دیکھے بغیر اسے
وہ شخص میرے دل سے اتر تو نہیں گیا

جاوید نسیمی




مجھ کو یہ محتاط اخلاص نظر اچھا لگا
اس کی دزدیدہ نگاہوں کا سفر اچھا لگا

جاوید نسیمی




پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں
اے خواب رائیگاں میں بتا تیرا کیا کروں

جاوید نسیمی




ساتھ چاول کے یہ کنکر بھی نگل جاتا ہے
بھوک میں آدمی پتھر بھی نگل جاتا ہے

جاوید نسیمی




سمجھنے سے رہا قاصر کہ دانستہ نہیں سمجھا
نہ جانے کیوں ہماری پیاس کو دریا نہیں سمجھا

جاوید نسیمی




ذرا قریب سے دیکھوں تو کوئی راز کھلے
یہاں تو ہر کوئی لگتا ہے آدمی جیسا

جاوید نسیمی




زندہ رہنے کے لیے اسباب دے
میری آنکھوں کو تو اپنے خواب دے

جاوید نسیمی