EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چاند کا قرب لگا کیسا چلو پوچھ آئیں
آسمانوں کے سفر سے وہ پلٹ آیا ہے

جاوید نسیمی




در بدر ہو گئے تعبیر کی دھن میں کتنے
ان حسیں خوابوں سے بڑھ کر کوئی سفاک نہیں

جاوید نسیمی




دیکھنا چھوڑے نہیں خواب مری آنکھوں نے
پورا ہر چند کوئی خواب نہیں ہو پایا

جاوید نسیمی




ایک چہرہ ہے جو آنکھوں میں بسا رہتا ہے
اک تصور ہے جو تنہا نہیں ہونے دیتا

جاوید نسیمی




گرنے والا ہے مرا بوجھ سنبھالے کوئی
اپنے آنسو مری پلکوں سے اٹھا لے کوئی

جاوید نسیمی




جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوں
اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے

جاوید نسیمی




مٹ جانے کے آثار وراثت میں ملے ہیں
گرتے در و دیوار وراثت میں ملے ہیں

جاوید نسیمی