ان کو تو سہل ہے وہ غیر کے گھر جائیں گے
ہم جو اس در سے اٹھیں گے تو کدھر جائیں گے
جاوید لکھنوی
یہ اک بوسے پہ اتنی بحث یہ زیبا نہیں تم کو
نہیں ہے یاد مجھ کو خیر اچھا لے لیا ہوگا
جاوید لکھنوی
اک نہ اک دن تو مسخر اس کو ہونا ہے ندیمؔ
وہ خلاؤں کا مکیں ہے نور کی رفتار میں
جاوید ندیم
جو رہنما تھے میرے کہاں ہیں وہ نقش پا
منزل پہ چھوڑتا تھا جو رستہ کدھر گیا
جاوید ندیم
کون سنتا ہے یہاں پست صدائی اتنی
تم اگر چیخ کے بولو تو اثر بھی ہوگا
جاوید ندیم
یہ کس کے آسماں کی حدوں میں چھپا ہوں میں
اپنی زمیں سے اٹھ کے کہاں آ گیا ہوں میں
جاوید ندیم
بے سایہ نہ ہو جائے کہیں گھر مرا یا رب
کچھ دن سے میں جھکتا یہ شجر دیکھ رہا ہوں
جاوید نسیمی

