EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب نہیں ملیں گے ہم کوچۂ تمنا میں
کوچۂ تمنا میں اب نہیں ملیں گے ہم

جون ایلیا




اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا

جون ایلیا




اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو
وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی

جون ایلیا




اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی
رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

جون ایلیا




اے شخص میں تیری جستجو سے
بے زار نہیں ہوں تھک گیا ہوں

جون ایلیا




اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں

جون ایلیا




اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا

جون ایلیا