روٹی جس کی بھینی خوشبو ہے ہزاروں راگ
نہیں ملے تو تن جل جائے ملے تو جیون آگ
جمیل الدین عالی
روز اک محفل اور ہر محفل ناریوں سے بھرپور
پاس بھی ہوں تو جان کے بیٹھیں عالؔی سب سے دور
جمیل الدین عالی
ساجن ہم سے ملے بھی لیکن ایسے ملے کہ ہائے
جیسے سوکھے کھیت سے بادل بن برسے اڑ جائے
جمیل الدین عالی
شہر میں چرچا عام ہوا ہے ساتھ تھے ہم اک شام
مجھے بھی جانیں تجھے بھی جانیں لوگ کریں بد نام
جمیل الدین عالی
سورؔ کبیرؔ بہاریؔ میراؔ ؔرحمنؔ تلسیؔ داس
سب کی سیوا کی پر عالؔی گئی نہ من کی پیاس
جمیل الدین عالی
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں
جمیل الدین عالی
اردو والے ہندی والے دونوں ہنسی اڑائیں
ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں
جمیل الدین عالی

