EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

جلیل عالیؔ




دل پہ کچھ اور گزرتی ہے مگر کیا کیجے
لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

جلیل عالیؔ




دنیا تو ہے دنیا کہ وہ دشمن ہے سدا کی
سو بار ترے عشق میں ہم خود سے لڑے ہیں

جلیل عالیؔ




غرور عشق میں اک انکسار فقر بھی ہے
خمیدہ سر ہیں وفا کو علم بناتے ہوئے

جلیل عالیؔ




ہم کہ ہیں نقش سر ریگ رواں کیا جانے
کب کوئی موج ہوا اپنا نشاں لے جائے

جلیل عالیؔ




عشق خود سکھاتا ہے ساری حکمتیں عالؔی
نقد دل کسے دینا بار سر کہاں رکھنا

جلیل عالیؔ




جاں کھپاتے ہیں غم عشق میں خوش خوش عالؔی
کیسی لذت کا یہ آزار بنایا ہوا ہے

جلیل عالیؔ