EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وقت دیتا ہے جو پہچان تو یہ دیکھتا ہے
کس نے کس درد میں دل کی خوشی رکھی ہوئی ہے

جلیل عالیؔ




یہ شہر طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلو میں کھڑا شخص فرشتہ کہ بلا ہے

جلیل عالیؔ




ذرا سی بات پر صید غبار یاس ہونا
ہمیں برباد کر دے گا بہت حساس ہونا

جلیل عالیؔ




بند کر بیٹھے ہو گھر رد بلا کی خاطر
ایک کھڑکی تو کھلی رکھتے ہوا کی خاطر

جلیل حیدر لاشاری




جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کے
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

جلیل حیدر لاشاری




مرے وجود میں وہ اس طرح سمو جائے
جو میرے پاس ہے سب کچھ اسی کا ہو جائے

جلیل حیدر لاشاری




تو نے دستک ہی نہیں دی کسی دروازے پر
ورنہ کھلنے کو تو دیوار میں بھی در تھے بہت

جلیل حیدر لاشاری