EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں
خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں

جلیل عالیؔ




پیار وہ پیڑ ہے سو بار اکھاڑو دل سے
پھر بھی سینے میں کوئی داب سلامت رہ جائے

جلیل عالیؔ




راستہ آگے بھی لے جاتا نہیں
لوٹ کر جانا بھی مشکل ہو گیا

جلیل عالیؔ




راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے
سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے

جلیل عالیؔ




تو زندگی کو جئیں کیوں نہ زندگی کی طرح
کہیں پہ پھول کہیں پر شرر بناتے ہوئے

جلیل عالیؔ




تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے
ہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہے

جلیل عالیؔ




اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے
یہ جھگڑا ہی مٹا دینا ضروری ہو گیا ہے

جلیل عالیؔ