ہر آن ایک تازہ شکایت ہے آپ سے
اللہ مجھ کو کتنی محبت ہے آپ سے
جلال الدین اکبر
عشق سے ہے فروغ رنگ جہاں
ابتدا ہم ہیں انتہا ہیں ہم
جلال الدین اکبر
ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی
ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے
جلال الدین اکبر
یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یاد
تو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یاد
جلال الدین اکبر
یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیں
تری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیں
جلال الدین اکبر
عالی شعر ہو یا افسانہ یا چاہت کا تانا بانا
لطف ادھورا رہ جاتا ہے پوری بات بتا دینے سے
جلیل عالیؔ
اپنے دیئے کو چاند بتانے کے واسطے
بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں
جلیل عالیؔ

