EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہر آن ایک تازہ شکایت ہے آپ سے
اللہ مجھ کو کتنی محبت ہے آپ سے

جلال الدین اکبر




عشق سے ہے فروغ رنگ جہاں
ابتدا ہم ہیں انتہا ہیں ہم

جلال الدین اکبر




ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی
ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

جلال الدین اکبر




یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یاد
تو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یاد

جلال الدین اکبر




یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیں
تری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیں

جلال الدین اکبر




عالی شعر ہو یا افسانہ یا چاہت کا تانا بانا
لطف ادھورا رہ جاتا ہے پوری بات بتا دینے سے

جلیل عالیؔ




اپنے دیئے کو چاند بتانے کے واسطے
بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

جلیل عالیؔ