EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وقت کی موج ہمیں پار لگاتی کیسے
ہم نے ہی جسم سے باندھے ہوئے پتھر تھے بہت

جلیل حیدر لاشاری




وہ دل کا ٹوٹنا تو کوئی واقعہ نہ تھا
اب ٹوٹے دل کی کرچیوں کی دھار سے بچو

جلیل حیدر لاشاری




دیواروں کی بستی میں
دروازہ لکھا میں نے

جلیل حشمی




سیکھ لیا جینا میں نے
اتنا زہر پیا میں نے

جلیل حشمی




تیری صورت پر گمان دشت و صحرا ہائے ہائے
تیرے قدموں میں بہاریں زندگی اے زندگی

جلیل حشمی




لپکا ہے یہ اک عمر کا جائے گا نہ ہرگز
اس گل سے طبیعت نہ بھرے گی نہ بھری ہے

جلیل قدوائی




خود اپنے آپ سے لرزاں رہی الجھتی رہی
اٹھا نہ بار گراں رات کی جوانی سے

جالب نعمانی