EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گئی تھی کہہ کے میں لاتی ہوں زلف یار کی بو
پھری تو باد صبا کا دماغ بھی نہ ملا

جلالؔ لکھنوی




عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی
درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی

جلالؔ لکھنوی




جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار
ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل

جلالؔ لکھنوی




نہ ہو برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا میں نے
چلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہے

جلالؔ لکھنوی




پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں
قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا

جلالؔ لکھنوی




وعدہ کیوں بار بار کرتے ہو
خود کو بے اعتبار کرتے ہو

جلالؔ لکھنوی




دل کو اس طرح دیکھنے والے
دل اگر بے قرار ہو جائے

جلال الدین اکبر