یہی ہستی اسی ہستی کے کچھ ٹوٹے ہوئے رشتے
وگرنہ ایسا پردہ میرے ان کے درمیاں کیا تھا
جگت موہن لال رواںؔ
ہے یہ تقدیر کی خوبی کہ نگاہ مشتاق
پردا بن جائے اگر پردہ نشیں تک پہنچے
جگدیش سہائے سکسینہ
ہوئی تھی اک خطا سرزد سو اس کو مدتیں گزریں
مگر اب تک مرے دل سے پشیمانی نہیں جاتی
جگدیش سہائے سکسینہ
ہجوم رنج و غم نے اس قدر مجھ کو رلایا ہے
کہ اب راحت کی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی
جگدیش سہائے سکسینہ
رنج و الم کا لطف اٹھانے کے واسطے
راحت سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں
جگدیش سہائے سکسینہ
الفت کی تھیں دلیل تری بدگمانیاں
اب بد گمان میں ہوں کہ تو بدگماں نہیں
جگدیش سہائے سکسینہ
بہت کشید کیا پانیوں کو سورج نے
سمندروں کی مگر بے کرانیاں نہ گئیں
جہانگیر عمران

