EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہی ہستی اسی ہستی کے کچھ ٹوٹے ہوئے رشتے
وگرنہ ایسا پردہ میرے ان کے درمیاں کیا تھا

جگت موہن لال رواںؔ




ہے یہ تقدیر کی خوبی کہ نگاہ مشتاق
پردا بن جائے اگر پردہ نشیں تک پہنچے

جگدیش سہائے سکسینہ




ہوئی تھی اک خطا سرزد سو اس کو مدتیں گزریں
مگر اب تک مرے دل سے پشیمانی نہیں جاتی

جگدیش سہائے سکسینہ




ہجوم رنج و غم نے اس قدر مجھ کو رلایا ہے
کہ اب راحت کی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی

جگدیش سہائے سکسینہ




رنج و الم کا لطف اٹھانے کے واسطے
راحت سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں

جگدیش سہائے سکسینہ




الفت کی تھیں دلیل تری بدگمانیاں
اب بد گمان میں ہوں کہ تو بدگماں نہیں

جگدیش سہائے سکسینہ




بہت کشید کیا پانیوں کو سورج نے
سمندروں کی مگر بے کرانیاں نہ گئیں

جہانگیر عمران